
ابوظہبی، 2 اکتوبر 2026 (غفران): بھارتی پائلٹ سمیت مچھر نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں اپنے شریک پائلٹ کی جانب سے مبینہ حملے کے بعد پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھول کر مدد طلب کی۔ ابوظہبی کے ایک اسپتال سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ویڈیو کال کے دوران سمیت مچھر نے واقعے اور طیارے کو مزید خطرے سے بچانے کی اپنی کوششوں کے بارے میں بتایا۔ ویڈیو میں پائلٹ کے سر اور ہاتھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ طیارہ تیزی سے نیچے جا رہا ہے اور زخمی ہونے کے باوجود وہ کاک پٹ کے دروازے تک پہنچنے اور اسے کھولنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے بعد مسافروں اور عملے کے ارکان نے کاک پٹ میں داخل ہو کر شریک پائلٹ کو قابو کر لیا۔ سمیت مچھر نے بتایا کہ وہ گزشتہ 17 سال سے طیارہ اڑا رہے ہیں جبکہ گزشتہ 11 برس سے کپتان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بدھ کو پیش آنے والے واقعے کے دوران 174 افراد کو لے جانے والا طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ترجمان نے بتایا کہ سمیت مچھر خون میں لت پت کاک پٹ کے فرش پر موجود تھے جب وہ دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد مسافروں اور عملے نے شریک پائلٹ کو قابو کیا جبکہ طیارے میں موجود فلائی دبئی کے دوسرے پائلٹوں نے کنٹرول سنبھال لیا اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتار لیا۔ ویڈیو کال کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پائلٹ کے حوصلے اور حاضر دماغی کو سراہا، جبکہ گجرات سے تعلق رکھنے والے سمیت مچھر نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ خدا نے انہیں بچایا۔