
اسلام آباد، 19 اکتوبر 2026 (نوشین): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان نے بار بار رکاوٹوں کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کی۔ دوحہ میں عالمی سلامتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے قطر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ قطر نے مسلسل مذاکرات کو ترجیح دی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت کی۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کے ذرائع قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کا مقصد کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنا اور تنازع کو وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے بچانا تھا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے پُرعزم ہے، حتیٰ کہ ایسے حالات میں بھی جب کشیدگی مذاکراتی عمل کو متاثر کرنے کا خطرہ پیدا کر دے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ایران کے دوروں پر گئے اور اعلیٰ ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں شریک ہوئے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد رابطوں کو برقرار رکھنا اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ شدید کشیدگی کے متعدد مواقع کے باوجود پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں اور رابطوں کے ذرائع بند نہیں ہونے دیے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپریل میں اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی، جبکہ جون میں امریکا اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جو دونوں ممالک کو قریب لانے کی سفارتی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی اور قطری رہنماؤں کی شرکت سے ہونے والے 16 گھنٹے طویل مذاکرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ تنازع حل کرنے کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں کا حصہ تھے۔ قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے تسلسل اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے دوحہ کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور اس کے شراکت دار سفارتی کامیابیوں کا سہرا اپنے سر باندھنے کے خواہش مند نہیں، بلکہ ان کی اولین ترجیح مزید تصادم کو روکنا اور بے گناہ انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایسا مستقبل چاہتا ہے جس میں اختلافات کو جنگ میں تبدیل ہونے سے پہلے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ شدید کشیدگی کے دوران بھی سفارتی رابطے برقرار رہنے چاہییں۔ وزیر داخلہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان مکہ میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی علاقائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد فوجی کارروائیوں کو فروغ دینے کے بجائے سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے نظام کو بہتر بنانے اور مشترکہ کوششوں کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے حصول کے لیے مسلسل مذاکرات، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون ناگزیر ہیں، جبکہ بحران کے دوران رابطوں کے ذرائع کسی صورت بند نہیں ہونے چاہییں۔