
کوئٹہ، 16 اگست 2026 (غفران): بلوچستان کی خواتین سیاستدانوں نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے شہریوں، خواتین اور بچوں پر مبینہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے میں دہشت گردی اور تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔بلوچستان اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولا اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کی مشیر مینہ مجید بلوچ نے کہا کہ مبینہ طور پر مسلح افراد ایک گھر میں داخل ہوئے اور 50 سالہ بی بی حنیفہ اور ان کی 17 سالہ بیٹی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔مینہ مجید بلوچ نے کہا کہ جن عناصر کو انہوں نے ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے وابستہ قرار دیا، وہ شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں امن، ترقی، خوشحالی اور تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ پرامن اور محب وطن بلوچ عوام کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں تشدد کی کارروائیوں سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔مینہ مجید بلوچ نے کہا کہ اسما جٹک کے والد کے قتل میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ خواتین کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف متحد ہوں، کیونکہ دہشت گرد گھروں کی حرمت پامال کرکے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے بلوچ خواتین پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد خواتین کو نشانہ بنا کر اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبے میں خواتین کو قتل کرکے دہشت گرد آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
بلوچستان اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولا نے کہا کہ خواتین کے قتل میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے اور بلوچ اور پشتون روایات میں خواتین کو انتہائی باعزت مقام حاصل ہے۔ہادیہ نواز نے گھروں کے اندر خواتین کے قتل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات نے عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کردیے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کریں اور تشدد کے خلاف متحد رہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست نے خواتین کے لیے روزگار کے مواقع اور بچیوں کے لیے تعلیم کی سہولیات فراہم کی ہیں، جبکہ دہشت گرد انہی طبقات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کے مشیر شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردوں سے نہ خواتین محفوظ ہیں اور نہ بچے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خواتین اور بچوں کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔شرکاء نے دہشت گردی کے مقابلے، شہریوں کے تحفظ اور بلوچستان میں امن، تعلیم اور ترقی کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔