
دبئی، 19 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے کی ایران کی تجویز اب بھی موجود ہے، تاہم اس پر پیش رفت کا انحصار واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات شرائط قبول کرنے پر ہے۔ عراقچی نے بغداد میں تنظیم تعاون اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس تجویز پر اپنے تبصرے ایران کو فراہم کیے ہیں، جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن سنجیدگی اور خلوص کا مظاہرہ کرے تو ایران اس معاملے پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ ایران نے یہ تجویز ستمبر کے وسط میں عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد پیش کی تھی۔ تاہم ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں کیونکہ امریکا نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق تمام سات شرائط پر توجہ نہیں دی۔ ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانا اور خطے کے تمام محاذوں پر دشمنی کا خاتمہ شامل ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر واشنگٹن ایران کی شرائط قبول کر لیتا ہے تو آبنائے ہرمز کو چھ روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، جبکہ اس کے اگلے روز مذاکرات کا عمل بحال ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ امریکا کا یہ اصرار ہے کہ مذاکرات کے آغاز ہی سے ایران کے جوہری پروگرام کو زیر بحث لایا جائے۔ رواں ماہ کے آغاز میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ایران کو واشنگٹن کے مطالبات پورے کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان آٹھ ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنا ہوگی۔ تاہم تہران کا مؤقف ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں دیگر معاملات کے بجائے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی بحال کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ تھی، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت گزرتی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی شرائط پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث ایران کی اس تجویز پر پیش رفت غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔