
تہران، 27 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے علاقائی امن و سلامتی سے متعلق مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاقِ رائے 26 اکتوبر کو تہران میں ہونے والے چار ملکی پہلے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ مشترکہ اعلامیے میں چاروں ممالک نے علاقائی سلامتی کے مشترکہ امور پر تعاون مضبوط بنانے اور باہمی رابطوں کو بہتر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں دفاع، انٹیلی جنس اور قومی سلامتی کے شعبوں سے وابستہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے تہران میں اجلاس کی میزبانی کی، جبکہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن بھی مذاکرات میں شریک ہوئے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی دورے پر آئے ہوئے نمائندوں سے ملاقاتوں میں شرکت کی۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے پیر کے روز اجلاس کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا محور علاقائی سلامتی اور استحکام تھا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم، مشترکہ اعلامیے میں کسی مخصوص معاہدے، مشترکہ کارروائی یا عمل درآمد کے تفصیلی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات نہیں ہوئی۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ تہران اس معاملے پر اس وقت تک مذاکرات نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جنگ کے خاتمے سے متعلق ایرانی مطالبات کا جواب نہیں دیتا۔ تہران میں ہونے والے اس اجلاس نے چاروں ممالک کے درمیان مسلسل سفارتی رابطوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، تاہم اگلے اجلاس کی تاریخ یا آئندہ اقدامات کے بارے میں تاحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ فی الحال چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، لیکن مزید عملی اقدامات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔