Tuesday, September 15

آبنائے ہرمز مذاکرات تعطل کا شکار، حوثیوں کے سعودی اہداف پر نئے حملے

Houthis Launch New Attacks on Saudi Targets as Talks over Strait of Hormuz Stall

ریاض، 15 ستمبر 2026 (غفران): ایران کے حامی یمنی حوثیوں نے سعودی عرب پر حملوں کی نئی لہر شروع کردی جبکہ بحیرہ احمر کے ساتھ یمن کے مغربی ساحل پر اپنی پوزیشنیں مزید مضبوط کرلیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب ریاض میں حوثیوں کی تیز پیش قدمی کے جواب میں حکمت عملی طے کرنے کے لیے ہنگامی مشاورت جاری تھی۔ دوسری جانب خلیجی عرب ریاستوں نے ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات مؤخر کردیے، جس سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔ حوثیوں نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی فضائی اڈے پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جن کا ہدف طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور اسلحے کے ذخائر تھے۔ حوثیوں نے ان حملوں کو یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا۔ سعودی حکام نے خمیس مشیط سمیت جنوبی سعودی عرب کے تین دیگر شہروں میں ہنگامی الرٹس جاری کیے، جبکہ یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ حوثیوں کے حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں کی پیش قدمی، جس میں بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر واقع جزیرہ پریم پر قبضہ بھی شامل ہے، نے سعودی تیل کی برآمدات پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو ایک فضائی حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل پائپ لائن کی ترسیل معطل ہوگئی تھی۔ ریاض نے اس حملے کا الزام عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔ سعودی عرب نے 1980 کی دہائی میں خلیج سے بحیرہ احمر تک تقریباً 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی تھی تاکہ ایران عراق جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو لاحق خطرات کے باعث تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستہ فراہم کیا جاسکے۔ تاجروں کے مطابق اگر سعودی پائپ لائن کی بندش طویل ہوگئی اور آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند رہی تو عالمی تیل کی سپلائی میں تقریباً 4 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ریاض نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ پائپ لائن کی کارروائیاں کب بحال ہوں گی۔ حوثیوں کی کارروائیوں کے جواب میں سعودی اور یمنی فضائی افواج نے حوثی اہداف کے خلاف فضائی حملے تیز کردیئے ہیں، جن میں بحیرہ احمر کی تاریخی بندرگاہ موچا کے اطراف کے علاقے بھی شامل ہیں۔ تاہم یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حکام کے مطابق حوثی بحیرہ احمر کے ساتھ ملک کے تقریباً پورے مغربی ساحل پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یمنی حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ حوثیوں پر شدید دباؤ ہے، تاہم وہ سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی مہم میں مزید شدت لاکر ردعمل دے رہے ہیں۔