Sunday, November 8

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مقدمات کے لیے بے چہرہ انسدادِ دہشت گردی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ

KP Plans to Establish Faceless Anti-Terrorism Courts for Terrorism Suspects

اسلام آباد، 8 نومبر 2026 (کامران راجہ): خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے ملزمان کے ٹرائل کے لیے بے چہرہ انسدادِ دہشت گردی عدالتیں (اے ٹی سیز) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ججوں، گواہوں، پولیس اہلکاروں اور عدالتی کارروائی سے وابستہ دیگر افراد کو دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورکس کی جانب سے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ خیبرپختونخوا کے ہوم سیکریٹری امجد علی خان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) میں اضافہ، دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنے والے افراد کی گرفتاری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بہتر بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے سابق صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق 22 اضلاع کے لیے 6 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم صرف ایک ارب روپے جاری کیے گئے۔ ہوم سیکریٹری نے کہا کہ اب وفاقی اور صوبائی حکومتیں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے حوالے سے ایک صفحے پر ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو 70 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، جن میں سے 59 ارب 80 کروڑ روپے پولیس کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری جبکہ 10 ارب 30 کروڑ روپے سی ٹی ڈی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کی استعداد کار 12 فیصد سے بڑھا کر 37 فیصد کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، جبکہ پولیس نفری کی 15 فیصد کمی کو کم کرکے 5 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ امجد علی خان نے مزید بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور بنوں میں سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔ مجوزہ بے چہرہ عدالتوں کے نظام کے تحت دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے دوران ججوں، گواہوں، پولیس اہلکاروں اور متعلقہ افراد کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی تاکہ انہیں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے ممکنہ انتقامی کارروائیوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے قانون سازی بھی متعارف کرائی جا رہی ہے، تاہم مجوزہ نظام کے تحت فریقین کو فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ حکومت نے پولیس اور عوام کے درمیان رابطے بہتر بنانے اور مقامی سطح پر تنازعات کے حل کے نظام کو مضبوط کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز (ڈی آر سیز) اور قبائلی علاقوں میں رابطہ کمیٹیوں کو فعال اور مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ جرگہ نظام کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ شہریوں کو پولیس خدمات تک آسان رسائی اور شکایات کے اندراج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے صوبے بھر میں 400 پولیس سہولت اسمارٹ ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔