Monday, November 2

ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باوجود ایران کی پاکستان اور قطر کے ذریعے بھرپور سفارتی کوششیں جاری

Iran pursues intensive diplomacy through Pakistan, Qatar as Trump renews military threats

اسلام آباد، 02 نومبر 2026 (غفران): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ کشیدگی کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان اور قطر کے ثالثوں کے ذریعے بھرپور سفارتی رابطے کر رہا ہے، تاہم خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی جارحیت کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ ترکمانستان کے دورے کے اختتام پر ایرانی خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے بتایا کہ درجنوں ٹیلی فونک رابطوں اور بھرپور سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے بات چیت جاری ہے، جبکہ ایران اپنا مجوزہ منصوبہ اور شرائط پیش کر چکا ہے اور اب اگلا قدم واشنگٹن کی جانب سے سفارت کاری اختیار کرنے کی آمادگی پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارتی اور فوجی دونوں صورتِ حال کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات مکمل طور پر بحال کرنے کا انحصار ایران کی شرائط غیر مشروط طور پر تسلیم کرنے پر ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کسی مرحلے پر ایران کو سخت جواب دینا پڑ سکتا ہے، تاہم انہوں نے مزید جانی نقصان سے بچنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں اور تجاویز کا ایک مسودہ رائے کے لیے گردش کر رہا ہے، جس کے بعد مزید ملاقات بھی ممکن ہے۔ یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب امریکی بحری ناکہ بندی اور اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ دریں اثنا، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ یکم نومبر کو آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو نامعلوم سمت سے آنے والے پرتابی ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا۔ ادارے نے بحری جہازوں کو احتیاط سے گزرنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ متاثرہ جہاز کی شناخت، ممکنہ جانی نقصان یا تباہی کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔