
اسلام آباد، 30 اکتوبر 2026 (نوشین): امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے قطری ثالث دوبارہ تہران پہنچ گئے ہیں، تاہم جوہری معاملات، پابندیوں اور امریکی بندرگاہی ناکہ بندی پر اختلافات مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ مذاکرات سے آگاہ ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ثالثی کی تازہ کوششیں واشنگٹن کے ساتھ رابطے اور مشاورت سے کی جا رہی ہیں۔ قطر نے رواں ہفتے کے آغاز میں ایران کو امن منصوبے کا مسودہ پیش کیا تھا، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے ان تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تہران کے جوہری مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا۔ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے آغاز ہی سے جوہری معاملات کو زیر بحث لایا جائے، جبکہ ایران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سات روزہ تجویز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے حوالے سے ثالثوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران سے رابطہ طبی سامان سے متعلق تھا، جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس میں اس رابطے کو امن مذاکرات کی بحالی کی کوششوں سے جوڑا گیا تھا۔ سفارتی رابطوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اہم اختلافات تاحال برقرار ہیں۔