Tuesday, November 3

البانیہ میں پُرتشدد حکومت مخالف مظاہروں کے بعد اپوزیشن کا پارلیمانی اجلاس میں ہنگامہ

Albanian Opposition Disrupts Parliament Session After Violent Anti-Government Protests

اسلام آباد، 29 اکتوبر 2026 (نوشین): البانیہ میں اپوزیشن ارکان نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران شعلے چھوڑنے والے فلیئرز جلا کر کارروائی میں خلل ڈال دیا، یہ واقعہ وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے کئی ہفتوں سے جاری پُرتشدد حکومت مخالف مظاہروں کے بعد پیش آیا۔ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آف البانیہ کے ارکان نے مرکزی بینک سے متعلق قانون پر ووٹنگ کے دوران اسپیکر کے ڈائس تک رسائی بھی روک دی۔ اپوزیشن رہنما سالی بیریشا نے اپنی تقریر میں حکمران جماعت کے ارکان کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان مظاہرین کے بجائے انہیں آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا چاہیے، تاہم اس دوران ان کا مائیک بند کر دیا گیا۔ دیگر اپوزیشن ارکان نے ان کے گرد جمع ہو کر ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہونے والے مظاہرین کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جبکہ بعض ارکان نے اپنی جماعت کے نمائندہ رنگ نیلے فلیئرز بھی بلند کیے۔ اکتوبر کے وسط سے طلبہ کی قیادت میں جاری مظاہروں میں حکومتی بدعنوانی، روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیم کے ناقص معیار پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ احتجاج دارالحکومت تیرانا کے مرکزی علاقوں سے دوسرے شہروں تک پھیل چکا ہے۔ وزیراعظم راما کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو آگ لگائی، دکانوں کے شیشے توڑے اور پولیس پر پھینکنے کے لیے سڑکوں سے پتھر اکھاڑ لیے۔ یہ بدامنی موسم گرما میں ایک لگژری ساحلی منصوبے کے خلاف کئی ماہ تک جاری رہنے والے نسبتاً پُرامن احتجاج کے بعد سامنے آئی ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی حمایت حاصل تھی۔ یہ صورتحال 2013 سے اقتدار میں رہنے والے راما کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج بن گئی ہے، جنہوں نے گزشتہ سال چوتھی مدت کے لیے کامیابی حاصل کی تھی۔ اتوار کے روز راما نے تشدد پر قابو پانے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا، جن میں ایسے احتجاج میں شرکت کرنے والے ہر شخص پر پانچ لاکھ لیک (تقریباً 6,200 ڈالر) جرمانہ عائد کرنا بھی شامل ہے جو پُرتشدد ہو جائے، خواہ متعلقہ شخص نے خود تشدد نہ کیا ہو۔ رواں ہفتے مظاہرے زیادہ تر پُرامن رہے، جبکہ ہفتے کے روز ایک اور احتجاج کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ وزیراعظم راما نے ایک بار پھر طلبہ کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور سڑکوں پر تشدد روکنے اور عوامی غصہ کم کرنے کے لیے سستا ایندھن فراہم کرنے اور غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد میں اضافے سمیت نئے معاشی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔