Tuesday, November 3

حوثیوں کا تعز شہر کا محاصرہ سخت، یمنی حکام کی عالمی برادری سے شہریوں کے تحفظ کے لیے مدد کی اپیل

Yemen Seeks International Help as Houthis Tighten Siege of Taiz

اسلام آباد، 28 اکتوبر 2026(کامران راجہ): یمن کے حکام نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے تعز شہر کا محاصرہ مزید سخت کیے جانے پر عالمی برادری سے شہریوں کے تحفظ اور شہر میں آمدورفت کے راستے کھلوانے کے لیے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران تعز صوبہ ایک اہم جنگی محاذ بن کر سامنے آیا ہے، جبکہ تعز شہر جنوبی یمن میں داخلے کا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد نے اس علاقے میں پناہ لے رکھی ہے، جس سے پہلے ہی محدود وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تعز کے گورنر نبیل شمسن نے کہا کہ شہری وادی الضباب کے کنوؤں سے حاصل ہونے والے تقریباً 30 لاکھ لیٹر پانی سے محروم ہو گئے ہیں، جو ان کے مطابق اب حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہ ہونے کی وضاحت کی ہے۔ دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی قانونی امور کی وزیر اشراق المقطری نے کہا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ دنوں میں تعز شہر کے مختلف علاقوں پر 2 ہزار سے زائد گولے اور دھماکہ خیز مواد داغا گیا ہے۔ انہوں نے باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی اور مالی وسائل کی رسائی روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ نبیل شمسن کے مطابق حوثیوں کی جانب سے مختلف محاذوں پر اضافی نفری تعینات کیے جانے کے بعد صوبے بھر میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور شہر کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ صورتحال کے باعث شہریوں کی سلامتی، بنیادی سہولیات تک رسائی اور جاری تنازع کے انسانی بحران میں مزید شدت آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔