Monday, November 2

پاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے دائرہ کار میں توسیع کی مخالفت، منصفانہ اصلاحات کا مطالبہ

Pakistan Opposes Expansion of Veto Powers at UN Security Council

اسلام آباد، 27 اکتوبر 2026 (غفران): پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے دائرہ کار کو بڑھانے کی مخالفت کرتے ہوئے جامع، منصفانہ اور سب کی شمولیت پر مبنی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ رکن ممالک کو بہتر نمائندگی حاصل ہو سکے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ مزید ممالک کو ویٹو کا اختیار دینے سے سلامتی کونسل میں موجود عدم مساوات مزید گہری ہو سکتی ہے اور فیصلہ سازی کے اختیارات چند ممالک تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے کونسلر گل قیصر سروانی نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نئے مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار دینے کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کا مقصد جمہوری نمائندگی کو فروغ دینا اور منتخب ارکان کے کردار کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ رکن ممالک کے درمیان مزید تقسیم پیدا کرنا۔ گل قیصر سروانی نے کہا کہ پاکستان ویٹو کا نظام ختم کرنے یا اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ ویٹو کے اختیارات کا غلط استعمال اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو استعمال کیے جانے کے بعد جنرل اسمبلی میں بحث کرانے کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ سلامتی کونسل کو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرات سے نمٹنے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ اس کے پانچ مستقل ارکان کو اہم قراردادوں کو ویٹو کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ پاکستان نے منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے اور فیصلہ سازی میں ان کی نمائندگی اور شرکت کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ گل قیصر سروانی کے مطابق اصلاحات سے تمام رکن ممالک کو فائدہ پہنچنا چاہیے، نہ کہ چند مخصوص ممالک کو خصوصی مراعات دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ متوازن ڈھانچہ سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ بنا سکتا ہے۔ پاکستان نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کے تمام پانچ اہم شعبوں پر جامع مذاکراتی پیکیج کے تحت بیک وقت بات چیت کی جائے تاکہ ایسی جزوی تبدیلیوں سے بچا جا سکے جو مخصوص ممالک کے حق میں ہوں۔ پاکستان کا مؤقف مستقل رکنیت کے ساتھ ویٹو کے اختیارات میں توسیع کی مخالفت اور ایسے منصفانہ نظام کی حمایت پر مبنی ہے جو بہتر نمائندگی یقینی بنائے، ویٹو کے استعمال کو محدود کرے اور منتخب ارکان کے کردار کو مضبوط بنائے۔ سلامتی کونسل کی اصلاحات سے متعلق عالمی بحث میں نمائندگی، فیصلہ سازی کے اختیارات اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے درمیان مساوات بدستور اہم موضوعات ہیں۔