Tuesday, November 3

ایران اور مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کا علاقائی سلامتی پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

Iran and Makkah Pact Members Agree to Continue Dialogue on Regional Security

تہران، 27 اکتوبر 2026 (غفران): ایران اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے سفارتی مذاکرات جاری رکھنے اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاقِ رائے پیر کے روز تہران میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سامنے آیا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق اجلاس کے شرکاء نے خطے کے چاروں ممالک کے درمیان امن و سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ مذاکرات میں علاقائی کشیدگی، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے اثرات اور فلسطین و لبنان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران علاقائی تعاون کو گہرا کرنے، اختلافات دور کرنے اور اسلامی ممالک کی مشترکہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایسے کسی بھی مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے جو علاقائی اتحاد، ہم آہنگی، سلامتی اور ترقی کو مضبوط بنائے۔ اجلاس کے آغاز پر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کا خیرمقدم کیا۔ پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی، جبکہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات میں اسرائیل کی پالیسیوں، فلسطینی علاقوں اور لبنان کی صورتحال اور ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے اثرات پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے گزشتہ ہفتے دورۂ تہران کے دوران تجویز کیے گئے اس اجلاس کو خطے کے ممالک کے مفادات کی بنیاد پر علاقائی سلامتی کا نظام قائم کرنے کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کرملی نے کہا کہ یہ اجلاس مکہ معاہدے کے رکن ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل کو فروغ دینے اور پاکستان و قطر کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی سے متعلق مسلسل خدشات کے تناظر میں یہ مذاکرات ایران اور علاقائی دفاعی معاہدے سے وابستہ تین ممالک کے درمیان اہم سفارتی رابطہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ دریں اثنا، کریملن کے حوالے سے خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن منگل کو ماسکو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کریں گے۔