
ریاض، 26 اکتوبر 2026 (نوشین): یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے پیر کو سعودی عرب کی مشرقی مغربی خام تیل پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی سے علاقائی استحکام اور عالمی تیل کی فراہمی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے دارالحکومت صنعا میں بیلسٹک میزائل داغنے والے دو لانچرز تباہ کر دیے ہیں، جن میں ایک ایسا لانچر بھی شامل تھا جس کے ذریعے ریاض کی جانب میزائل داغا گیا، تاہم اتحادی افواج کے مطابق اسے روک لیا گیا۔ سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے تازہ حملوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ حوثی گروپ وسیع تر علاقائی جنگ کے تناظر میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ گروپ نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جہاں رواں ماہ کے آغاز میں حوثیوں کے دعوے کے مطابق ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد ایئرپورٹ کے دو ٹرمینلز نے اتوار کو دوبارہ کام شروع کیا۔ دوسری جانب مکہ معاہدے میں شامل سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام پیر کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں علاقائی رابطہ کاری اور تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔ معاملے سے آگاہ دو افراد کے مطابق یہ ملاقات سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد ایران اور تینوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطحی مشترکہ رابطہ کاری ہوگی۔ سعودی عرب نے ستمبر میں عراق سے آنے والے ایک ڈرون حملے کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنی 1,200 کلومیٹر طویل مشرقی مغربی تیل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی تھی، جس کے بارے میں ریاض اور بغداد نے کہا تھا کہ ڈرون عراق سے آیا تھا۔
آبنائے ہرمز جنگ کے باعث بڑی حد تک بند ہونے کے بعد یہ پائپ لائن سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم متبادل راستہ رہی ہے۔ حوثیوں نے ہفتے کے روز بھی پائپ لائن، خام تیل کے پمپنگ اسٹیشنوں، ینبع میں آرامکو کی ایک تنصیب اور رابغ آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم سعودی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے پیر کو بتایا کہ اس نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی، جس کے دوران بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کے لیے استعمال ہونے والی پانچ سرنگیں، چار میزائل لانچرز اور میزائل ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب تباہ کر دی گئی۔ اتحادی ترجمان ترکی المالکی کے مطابق کارروائی میں حوثیوں کی رسد کی گزرگاہوں، جنگجوؤں اور محاذوں پر موجود فوجی سازوسامان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید دفاعی اور بازدارانہ کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے ساحل پر اہم علاقوں پر قبضے اور باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی کے بعد اپنے فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ باب المندب عالمی بحری تجارت اور خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ تازہ لڑائی کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی عملاً ختم ہو گئی ہے، جو 2022 سے بڑی حد تک برقرار تھی۔ سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے اتحادی فوجی کارروائی شروع کی تھی، جبکہ حوثیوں نے اس سے ایک سال قبل دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔