Tuesday, October 20

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقات، پاک امریکا ایران تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری

CDF Asim Munir Meets Senior Iranian Officials as Pakistan Intensifies Diplomatic Efforts to End US-Iran Conflict

تہران، 20 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منگل کو اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں، جبکہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی سابقہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایک عبوری امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت رک گئی۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے دورۂ ایران کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کی، جس میں ثالثی کی کوششوں اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محسن رضائی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد بیرون ملک منتقل نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس مواد کو ایرانی عوام کا قومی اثاثہ اور قومی خزانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ملک کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا۔ رضائی کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اور حکام اس مؤقف پر متحد ہیں کہ امریکا کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جانے تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے پہلا قدم امریکا کی جانب سے ایران کی شرائط پوری کرنا ہے، جبکہ انہوں نے پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات پر بھی زور دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی تہران میں ملاقات کی، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازع پر گفتگو ہوئی۔ قالیباف نے کہا کہ جب تک واشنگٹن نیویارک میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط پر عمل درآمد نہیں کرتا، تہران امریکا پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس معاملے پر اپنا مؤقف پہلے ہی واضح کر چکا ہے اور اس کے پاس کہنے کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔