Monday, October 19

خیبر پختونخوا میں گورننس، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کے لیے 180 روزہ منصوبہ تیار

KP Prepares 180-Day Action Plan for Governance, Health and Education Reforms

پشاور، 17 اکتوبر 2026 (غفران): خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں سیاسی و معاشی استحکام کے فروغ، طرزِ حکمرانی میں بہتری، عوامی خدمات کو مؤثر بنانے اور ترقیاتی عمل تیز کرنے کے لیے 27 محکموں میں 206 اقدامات پر مشتمل جامع ایکشن پلان تیار کر لیا ہے، جس میں ضم شدہ اضلاع بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق 100 سے 180 روزہ مجوزہ منصوبے میں امن و امان، انتظامی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صحت، تعلیم، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معاشی ترقی پر توجہ دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت تقریباً 1,150 اہم سڑکوں کی مرمت، 8 ہزار کھلے مین ہولز پر ڈھکن لگانے، 4 ہزار مقامات پر صفائی کے انتظامات بہتر بنانے اور تقریباً 150 بند نکاسی آب کی نالیوں کو کھولنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 80 پارکوں کی بحالی، بازاروں اور سرکاری عمارتوں کی خوبصورتی، اہم شاہراہوں پر شمسی توانائی سے چلنے والی اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، پشاور کے 20 مصروف چوراہوں پر ٹریفک کے نظام میں بہتری اور رنگ روڈ کے نامکمل حصوں کی تکمیل بھی منصوبے میں شامل ہے۔ جی ٹی روڈ کی مرمت و بحالی، بنوں میں بائی پاس کی تعمیر و بہتری اور غیر فعال واٹر سپلائی اسکیموں کی بحالی بھی مجوزہ اقدامات کا حصہ ہیں۔صحت کے شعبے میں 250 مراکز پر 24 گھنٹے طبی سہولیات کی فراہمی، بنیادی مراکز صحت میں ویکسینیشن کی سہولت اور ضروری ادویات کی کم از کم 80 فیصد دستیابی یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی حاضری کی ڈیجیٹل نگرانی بھی کی جائے گی۔ تعلیم کے شعبے میں 1,500 اسکولوں کی بہتری اور تقریباً 7 لاکھ طلبہ کو درپیش فرنیچر کی کمی دور کرنے کے لیے نیا فرنیچر فراہم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ناقص کارکردگی والے اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے اور ضم شدہ اضلاع میں تباہ شدہ یا غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ جنوبی خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 کی خدمات کو وسعت دینے کے ساتھ کھیلوں کے میدانوں اور سہولیات کو بہتر بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔نوجوانوں کے لیے بلا سود قرضوں، فنی تربیت، روزگار کے حصول میں مدد دینے والی مہارتوں کی ترقی، سرکاری عمارتوں میں یوتھ سینٹرز کے قیام، کھیلوں کے مقابلوں اور جامعات میں کاروباری و تحقیقی منصوبوں کی معاونت کی تجاویز شامل ہیں۔ توانائی کے شعبے میں 65 ہزار گھرانوں، خصوصاً بیواؤں اور محروم طبقات، کو گھریلو شمسی نظام نصب کرنے کے لیے رعایتی مالی معاونت فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کان کنی کے شعبے میں کان کنوں کے طبی معائنے، تکنیکی تربیت، کان کنی کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے اور کوہاٹ، ایبٹ آباد اور بونیر میں کان کنی کے حادثات سے نمٹنے کے لیے مراکز قائم کرنے کی تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے لیے ’’مستحکم خیبر پختونخوا‘‘ اور ’’خیبر پختونخوا 180 روزہ اسٹریٹجک ایکشن پلان‘‘ سمیت مختلف نام تجویز کیے گئے ہیں۔ مجوزہ اقدامات کا مقصد صوبے بھر میں سرکاری کارکردگی بہتر بنانا، عوامی سہولیات میں اضافہ اور شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہے۔