Sunday, October 11

وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا دفاع، دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر زور

Federal Government Defends Governor’s Rule in Khyber Pakhtunkhwa, Cites Security Concerns

اسلام آباد، 11 اکتوبر 2026 (غفران): وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مبینہ روابط کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ خراب ہوتی سکیورٹی صورتحال کے باعث حکومت کے پاس یہ قدم اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ بعض اضلاع میں دہشت گردوں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک ماہ تک صوبائی حکومت اور اپوزیشن سے مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن بات چیت کامیاب نہ ہوسکی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو دھرنے پر اعتراض نہیں بلکہ اس کی بنیادی تشویش دہشت گردی ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور گزشتہ 18 ماہ کے دوران 518 پولیس اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک فریق کی کوششوں سے نہیں جیتی جاسکتی بلکہ اس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔