
ادیس ابابا، 6 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ایتھوپیا میں عوامی نمائندگان کے ایوان کے ساتویں دور کے پہلے باقاعدہ افتتاحی اجلاس کے بعد نئی وفاقی حکومت تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ ایوان نے ڈاکٹر ابی احمد کو مزید پانچ سال کے لیے ایتھوپیا کا وزیراعظم منتخب کرلیا۔ وزیراعظم کا انتخاب ساتویں عام انتخابات کے بعد عمل میں آیا، جو پُرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور جن میں 5 کروڑ 40 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے حصہ لیا۔ خوشحالی پارٹی نے عوامی نمائندگان کے ایوان کی 486 متنازع نشستوں میں سے 438 نشستیں حاصل کیں۔ انتخابات 1,139 حلقوں میں منعقد ہوئے، جن میں عوامی نمائندگان کے ایوان کے لیے 501 جبکہ علاقائی کونسلوں کے لیے 638 حلقے شامل تھے۔ افریقی یونین اور بین الحکومتی اتھارٹی برائے ترقی سمیت بین الاقوامی مبصر مشنز نے انتخابی عمل کو شفاف قرار دیا۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد نے کہا کہ ایتھوپیا کے انتخابات نے متعدد چیلنجز کے باوجود ملک کے جمہوری کلچر کو مزید مضبوط کیا ہے اور یہ عمل آگ میں تپ کر کندن بننے والے سونے کی طرح آزمائشوں سے گزر کر نکھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری مقابلے میں کسی جماعت کی کامیابی یا ناکامی ایک فطری امر ہے، تاہم ایتھوپیا میں کوئی ہارنے والا بچہ نہیں بلکہ سب فاتح ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ قومی مشکلات پر قابو اسی وقت پایا جاسکتا ہے جب ہم بھائیوں کی طرح متحد ہوکر آگے بڑھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی افریقہ میں ایتھوپیا کا بااثر اور قائدانہ مقام کسی انسانی احسان کا نتیجہ نہیں بلکہ ملک کی اپنی طاقت، استقامت اور عوامی بنیاد کی بدولت قائم ہے، اسی لیے ایتھوپیا خطے میں امن اور استحکام کے لیے مضبوط کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر اومر ایچ اوبا نے اپنے تہنیتی پیغام میں وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد، پارلیمانی قیادت اور عوامی نمائندگان کے ایوان کے ارکان کو پانچ سالہ مدت کے لیے اپنے سرکاری حلف اٹھانے پر مبارکباد دی۔ سفیر نے کہا کہ نئی حکومت کی تشکیل ایتھوپیا کی جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کے جمہوری اصولوں اور اقدار سے پختہ وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے ایتھوپیا کے عوام کے لیے مسلسل امن، خوشحالی اور ترقی کے ساتھ ساتھ قومی اتحاد اور معاشرتی یکجہتی میں مزید استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔