
لاہور، 4 اکتوبر 2026 (نوشین): وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کو ناکام بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات ختم ہونے سے قبل مجوزہ معاہدے کے 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو چکا تھا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے نیک نیتی سے مذاکرات میں حصہ لیا جبکہ ایک جامع معاہدے کا مسودہ تیار کیا گیا تھا جس میں چار مرتبہ ترمیم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک یا دو نکات حل طلب رہ گئے تھے، تاہم مسودے میں مزید تبدیلیاں تجویز کیے جانے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے معاہدہ مسترد کر دیا۔ محسن نقوی نے سوال اٹھایا کہ اگر حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ نے ہی کرنا تھا تو وہ براہ راست مذاکرات میں شریک کیوں نہیں ہوئے۔ وزیر داخلہ کے مطابق دو مجوزہ معاہدوں پر بات چیت ہو رہی تھی، جن میں ایک وسیع تر سیاسی امور جبکہ دوسرا انسداد دہشت گردی سے متعلق تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ابتدا میں تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں میں عملدرآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں دہشت گرد گروہوں کو آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھنے یا محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے سے روکنا، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی واضح مذمت اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد شامل تھا۔ دیگر تجاویز میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اضافی فنڈز، مسلح افواج کے ساتھ مؤثر رابطہ، سکیورٹی اقدامات کی صوبائی سطح پر ذمہ داری اور خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین اور کیمپوں سے متعلق پالیسیاں شامل تھیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ سکیورٹی کے معاملات کو سیاسی تنازعات سے نہیں جوڑا جانا چاہیے اور صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ اپوزیشن اور حکومتی وفود نے پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں کئی گھنٹے مذاکرات کیے، تاہم کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ تعطل کی ایک وجہ جیل میں موجود پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے معاملات بھی تھے۔
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپوزیشن سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے احتجاج مؤخر کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت اسلام آباد میں سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضے کی کسی کوشش کی اجازت نہیں دے گی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 14 ستمبر کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ محسن نقوی نے مزید کہا کہ احتجاج کے دوران قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی نقصان کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد ہوگی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مجوزہ معاہدے کا مسودہ سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس میں شامل مطالبات نہ غیر آئینی ہیں اور نہ غیر قانونی۔ مسودے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مذاکرات، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت، قانونی طور پر ممکن زیر التوا قیدی اپیلوں پر پیش رفت اور خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی و امن و امان کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مسلسل مشاورت کی تجاویز شامل تھیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی کرائے تو پی ٹی آئی اپنا لانگ مارچ منسوخ کر دے گی، تاہم یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں پارٹی پرامن اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھے گی۔