
ٹوکیو، 4 اکتوبر 2026 (نوشین): جاپانی وزیراعظم سانے تاکائیچی نے اوکیناوا میں ایک جاپانی خاتون کے مبینہ قتل اور ڈکیتی کے الزام میں امریکی میرین کی گرفتاری کے بعد امریکہ سے سخت احتجاج کیا ہے۔ جاپانی پولیس کے مطابق 20 سالہ امریکی میرین ڈیون جیکب بالارڈ پر ہفتے کے روز اوکیناوا کے دارالحکومت ناہا کے ایک ہوٹل میں 39 سالہ جاپانی خاتون اینا یاگی کو قتل کرنے اور ان کا بٹوہ و بیگ لے جانے کا شبہ ہے، تاہم بالارڈ نے الزامات سے انکار کیا ہے۔ وزیراعظم سانے تاکائیچی نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جاپان نے امریکی حکومت سے باضابطہ احتجاج کیا ہے اور تحقیقات میں بھرپور تعاون، نظم و ضبط مزید سخت کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی سفارتخانے اور امریکی میرین کور نے واقعے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جاپانی حکام کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ میرین کور کے مطابق بالارڈ تھرڈ میرین ایکسپیڈیشنری فورس سے وابستہ اور میرین کور ایئر اسٹیشن فُوتینما میں تعینات ہے اور اس وقت جاپانی حکام کی تحویل میں ہے۔ میرین کور نے کہا کہ الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ہر میرین سے اعلیٰ ترین طرزِ عمل کی توقع کی جاتی ہے۔ جاپان میں تعینات تقریباً 18 ہزار امریکی میرینز میں سے زیادہ تر اوکیناوا میں موجود ہیں، جہاں امریکی فوجی موجودگی شور، طیاروں کے حادثات اور فوجی اہلکاروں کے رویے جیسے معاملات کے باعث مقامی آبادی میں طویل عرصے سے بے چینی کا باعث رہی ہے۔ 1995 میں تین امریکی فوجیوں کی جانب سے 12 سالہ اوکیناوا کی لڑکی سے زیادتی کے واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔ حالیہ قتل کے واقعے سے فُوتینما ایئر بیس سے کچھ امریکی میرینز کو ہینوکُو کے نسبتاً دور علاقے میں منتقل کرنے کے منصوبے کو بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ مخالفین امریکی فوجیوں کو اوکیناوا سے مکمل طور پر منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تائیوان سے قریب ترین مقام پر تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اوکیناوا کو جاپان اور امریکہ چین کی ممکنہ فوجی جارحیت کی روک تھام کے لیے انتہائی اہم تزویراتی خطہ سمجھتے ہیں۔