
دبئی، 2 اکتوبر 2026 (نوشین): ایرانی ذرائع کے مطابق ایران امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی حملوں کی صورت میں وسیع اور ممکنہ طور پر زیادہ سخت ردعمل کی تیاری کر رہا ہے، تاہم مزید کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تین سینئر ایرانی حکام اور معاملے سے باخبر ایک شخص نے بتایا کہ اعلیٰ عسکری کمانڈرز ایسے منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے تحت ممکنہ اہداف کو امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات سے بڑھا کر ان ممالک تک توسیع دی جا سکتی ہے جو امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ سے باہر کے مقامات کو بھی نشانہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی کوششوں کو درپیش مشکلات کے باعث فوجی منصوبہ بندی میں تیزی آئی ہے۔ یہ پیش رفت کئی ماہ سے جاری تنازع کے بعد سامنے آئی ہے جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوا تھا، جبکہ 8 اپریل کو 40 روزہ جنگ کے خاتمے کے لیے جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم وقفے وقفے سے دشمنانہ کارروائیاں جاری رہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق طویل محاذ آرائی کے معاشی اور سیاسی اثرات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، خصوصاً تیل کی برآمدات اور ملکی معیشت پر عائد پابندیوں کے تناظر میں۔ دو ایرانی حکام نے بتایا کہ لبنان، یمن اور عراق میں موجود اتحادی گروہوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر امریکہ نے بڑے پیمانے پر دوبارہ حملے کیے تو ممکنہ مربوط ردعمل کے لیے تیار رہیں۔ دوسری جانب تہران نے بالواسطہ مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران نے مبینہ طور پر قطری ثالثوں کے ذریعے ایک تجویز پیش کی، جس میں جنگ بندی، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، کم از کم 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور تیل پر عائد پابندیوں میں رعایت کا مطالبہ کیا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ کی جانب سے قطر کے ذریعے جواب موصول ہوا ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔ رائٹرز سے بات کرنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق سفارتی معاہدے کے امکانات بدستور غیر یقینی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تنازع کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک، ایران کی فوجی صلاحیتیں متاثر اور ملکی معیشت پر مزید دباؤ پڑا ہے، جبکہ علاقائی تیل کی ترسیل اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایرانی قیادت کو معاشی مشکلات اور ماضی میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے باعث داخلی استحکام کے حوالے سے بھی تشویش ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے تنازع کے دوران گرفتاریوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس پیش کی ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔