
واشنگٹن، 2 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ دوبارہ فوجی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب اور قطر میں دو اضافی پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں تعینات کر دی ہیں تاکہ اہم تیل اور گیس تنصیبات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے دو امریکی حکام اور ایک علاقائی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایک پیٹریاٹ بیٹری سعودی عرب میں اہم تیل تنصیب کی حفاظت کے لیے جبکہ دوسری قطر میں قدرتی گیس کی تنصیب کے دفاع کے لیے تعینات کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان تعیناتیوں کا مقصد دونوں امریکی اتحادی ممالک کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو واشنگٹن ان کے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ میں مدد فراہم کرے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی اور قطری قیادت نے اگست میں صدر ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز کریں، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ایران جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان کے اپنے تیل اور گیس کے مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکی حکام نے ایکسیوس کو بتایا کہ یہ خدشات ان عوامل میں شامل تھے جن کے باعث صدر ٹرمپ نے اس وقت فوجی کارروائی کے بجائے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کی۔ یہ تعیناتیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب امریکہ مشرق وسطیٰ کی جانب مزید جنگی بحری جہاز، فوجی اہلکار اور طیارے بھیج رہا ہے۔ امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جنگی گروپ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اور میکِن آئی لینڈ ایمفیبیئس ریڈی گروپ بھی خطے کی جانب روانہ ہونے والی امریکی فورسز میں شامل ہیں۔