
اسلام آباد، 30 ستمبر 2026 (غفران): پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر ’’سنجیدگی سے غور‘‘ کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی قیادت 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا منصوبہ واپس نہیں لیتی تو صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے ملک گیر احتجاج کے سلسلے میں اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے میں صوبائی حکومت کی مبینہ ناکامی کے باعث آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وفاقی سطح پر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی ضرورت پڑنے پر حکومت کا ساتھ دے گی۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے پارٹی سے مشاورت کرتی ہے تو پیپلز پارٹی آئین اور قانون کے مطابق اپنی رائے دے گی۔ انہوں نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم سیاست کی آڑ میں ریاست کے خلاف تشدد ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ نیر حسین بخاری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی مذاکرات کی حمایت کرتی ہے اور قومی مسائل کو بامعنی سیاسی رابطے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے کثیر الجماعتی کانفرنس کی دعوت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ غور کرے گی اور حتمی فیصلہ بھی وہی کرے گی۔