Tuesday, September 29

دو دہائیوں بعد امریکی افواج کا عراق سے انخلا، ایران کے اثر و رسوخ میں اضافے کے خدشات

US Forces Exit Iraq After Two Decades, Raising Concerns Over Iran Influence

بغداد، 29 ستمبر 2026 (غفران): امریکی افواج بدھ تک عراق میں اپنے آخری فوجی اڈے خالی کر دیں گی، جس کے ساتھ عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انخلا کے بعد ایران کے اثر و رسوخ میں اضافے اور سیکیورٹی کے خلا کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، جس سے داعش فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ امریکا اور عراق کے درمیان فوجی انخلا کا معاہدہ 2024 میں طے پایا تھا اور اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں مکمل کیا جا رہا ہے۔ ایران اور عراق میں اس کے اتحادی مسلح گروہوں نے امریکی افواج کے انخلا کو کامیابی قرار دیا ہے۔ عراقی سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی افواج کے انخلا کے بعد ایران کو عراق میں مزید اسٹریٹجک اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ ایران نواز ملیشیا عراق کے سیکیورٹی اور سیاسی معاملات میں زیادہ اثرانداز ہونے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ بعض عراقی حکام اور سیکیورٹی شخصیات نے بھی خدشات ظاہر کیے ہیں کہ عراق امریکی معاونت کے بغیر اپنی سیکیورٹی مکمل طور پر سنبھالنے کے لیے ابھی تیار نہیں، جبکہ سنی قبائلی رہنماؤں نے ممکنہ سیکیورٹی خلا سے خبردار کیا ہے۔ امریکا نے 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا اور 2011 میں اپنی افواج واپس بلا لی تھیں، تاہم داعش کے خلاف عراقی فورسز کی معاونت کے لیے امریکی فوجی 2014 میں دوبارہ عراق پہنچے۔ داعش کو 2017 میں عراق میں اپنے علاقائی کنٹرول سے محروم کر دیا گیا تھا۔ کرد اور عراقی سیکیورٹی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس، لاجسٹک معاونت اور ڈرون صلاحیتوں کے خاتمے سے داعش کو اپنی خفیہ سیلوں پر مشتمل نیٹ ورک دوبارہ منظم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ عراقی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں امریکی انخلا کے دوران خودکش حملے کرنے کی داعش کی مبینہ منصوبہ بندی بھی ناکام بنائی ہے۔