
اقوام متحدہ، 25 ستمبر 2026 (کامران راجہ): اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران خطے میں اسرائیل کے اقدامات کا دفاع کیا، جبکہ درجنوں مندوبین نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ نیتن یاہو نے غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیل پر ہونے والی عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اسرائیل نے نسل کشی کو روکنے کے لیے اقدامات کیے۔ انہوں نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی، مغربی یورپی رہنماؤں، قطر اور ترکیہ کو بھی اسرائیل سے متعلق ان کے مؤقف پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ممدانی پر حماس کی حمایت کا الزام عائد کیا، جس کی ممدانی تردید کرچکے ہیں۔ ممدانی نے جواب دیتے ہوئے نیتن یاہو پر ایسی باتیں دہرانے کا الزام عائد کیا جنہیں انہوں نے بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کا گرفتاری وارنٹ موجود ہے جس میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات شامل ہیں۔ قطر نے بھی نیتن یاہو کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات زمینی صورتحال سے متعلق پالیسیوں کی ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ نیتن یاہو کا خطاب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے پانچ ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل سامنے آیا، جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ تنازع سمیت متعدد محاذوں پر اسرائیل کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کو اجاگر کیا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب سیکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا، جبکہ پولیس نے بعض مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل کے لیے حمایت کو بھی سراہا۔ ان کا خطاب غزہ میں اسرائیل کے اقدامات پر جاری عالمی تنقید اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں اور تشدد کے حوالے سے بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے دوران ہوا۔