
عدن، 25 ستمبر 2026 (نوشین): یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی خانہ جنگی کے باعث ملک کا پہلے سے کمزور طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہوگیا ہے، جہاں اسپتالوں میں زخمیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ، ادویات اور طبی سامان کی قلت اور ضروری سپلائی راستوں میں رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں۔ طبی عملے اور امدادی تنظیموں نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بعض اسپتال زخمیوں کے علاج کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں اور حاملہ خواتین سمیت دیگر فوری طبی امداد کے ضرورت مند مریضوں کو بھی واپس کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تازہ کشیدگی سے متاثر ہونے والے بیشتر اسپتال اور بنیادی صحت مراکز پہلے 48 گھنٹوں کے دوران بند رہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ طبی ضروریات والے علاقوں تک رسائی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ متاثرہ طبی مراکز میں سے 10 فیصد سے بھی کم ایسے ہیں جہاں زخمیوں کو مطلوبہ ہنگامی طبی سہولیات مکمل طور پر دستیاب ہیں۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے خلاف ایران نواز حوثی جنگجوؤں کی پیش قدمی کے باعث ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ عدن، مارب اور تعز کے طبی مراکز میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ ایندھن، آکسیجن، بے ہوشی کی ادویات اور دیگر ضروری طبی سامان کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے، جبکہ بعض اسپتالوں کے زچگی وارڈز کو ہنگامی علاج کے مراکز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ تعز میں المخا کے اطراف لڑائی کے بعد اسپتالوں میں سیکڑوں زخمیوں کو لایا گیا ہے جبکہ بعض طبی مراکز حکومتی کنٹرول سے بھی باہر ہوگئے ہیں۔ عدن میں غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج کا ایک مرکز بھی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جہاں سات سالہ طارق السلمی بھی طبی امداد میں تاخیر کے بعد پہنچا۔ امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل لڑائی، محدود رسائی اور طبی عملے کی کمی یمن کے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جو تازہ کشیدگی سے پہلے ہی دنیا کے شدید ترین انسانی بحرانوں میں شمار ہوتا تھا۔