
مانچسٹر، 20 ستمبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان وسیم اکرم نے بابر اعظم کی قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں صرف کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلنے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ مانچسٹر میں وقار یونس کے ہمراہ ایک فلاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ وہ کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہتے اور ان کی رائے غلط بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تیسرے ٹیسٹ کے ٹاس کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم سے سات کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف میں تبدیلیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مبینہ طور پر لاعلمی کا اظہار کیا۔ وسیم اکرم نے کہا کہ کپتان کو اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ کوئی بھی کھلاڑی اس وقت اپنی بہترین کارکردگی نہیں دکھا سکتا جب اسے محسوس ہو کہ اس کا کپتان اس کی حمایت نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق بابر اعظم کو دوسرے ٹیسٹ کے بعد کپتانی کی اضافی ذمہ داری سنبھالنے کے بجائے صرف کھلاڑی کی حیثیت سے ٹیم کا حصہ رہنے کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ وسیم اکرم نے مزید کہا کہ قیادت اضافی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے اور دوسرے ٹیسٹ کے بعد پیدا ہونے والے حالات بابر اعظم کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے پر آمادہ کرنے چاہیے تھے۔