
تہران، 19 ستمبر 2026 (غفران): ایران نے کہا ہے کہ زیر التوا معاملات کے حل اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی ثالثی جاری ہے۔ ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینوند نے پریس بریفنگ کے دوران یہ بات کہی۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق زینوند نے کہا کہ تہران کو توقع ہے کہ معاہدے کا دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ معاہدے کی ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے منظوری دی تھی اور اسے سپریم لیڈر کی توثیق حاصل ہے۔ ترجمان نے معاہدے کو ایرانی ریاستی نظام کا باضابطہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے فعال سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی سفارتی سرگرمیوں میں صدر کی شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس اجلاسوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ وسیع تر مشاورت بھی شامل ہے۔ اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے زینوند نے کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری مغربی پابندیوں کے باعث اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایرانی عوام کے لیے ایک اہم تشویش ہیں، جبکہ حکومت مہنگائی اور دیگر معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران متاثر ہونے والے شہری بنیادی ڈھانچے کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح بن گئی ہے۔ ایرانی ترجمان کے مطابق رہائشی عمارتوں اور پولیس اسٹیشنوں سمیت عوامی خدمات کی سہولیات کی مرمت کو ایسے غیر ضروری سرکاری منصوبوں پر ترجیح دی جائے گی جنہیں مؤخر کیا جاسکتا ہے۔ زینوند کے مطابق حملوں کے نتیجے میں ہرمزگان اور گلستان سمیت کئی صوبوں میں تقریباً 75 ہزار رہائشی یونٹس، بنیادی ڈھانچے کے بعض حصے اور رابطہ پل متاثر ہوئے ہیں۔