
واشنگٹن، 17 ستمبر 2026 (نوشین): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، تاہم سات ماہ سے جاری تنازع کے دوران سعودی طیاروں کی یمن میں کارروائیوں اور ایران نواز حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی شہروں پر ڈرونز اور میزائل حملوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ تنازع کے یمن تک پھیلنے سے عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی تیل کی سپلائی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کے لیے سفری انتباہ بھی مزید سخت کرتے ہوئے اپنے سرکاری ملازمین کو یمن کی سرحد سے 20 میل (30 کلومیٹر) کے اندر سفر کرنے سے روک دیا ہے۔ بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جنگ اختتام کے قریب ہے اور انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے براہِ راست رابطہ موصول ہوا ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع نے عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔ بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 108 ڈالر فی بیرل رہی، تاہم جمعرات کی ابتدائی تجارت میں سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی ترسیل کی اطلاعات کے بعد قیمت کم ہو کر تقریباً 104.59 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔