Tuesday, September 15

فری فلسطین کے مطالبے پر ریپر میکلمور کو ایڈ شیرن کے امریکی ٹور سے ہٹا دیا گیا

Rapper Macklemore Dropped from Ed Sheeran’s US Tour After ‘Free Palestine’ Speeches

واشنگٹن، 15 ستمبر 2026 (نوشین): امریکی ریپر میکلمور کو دو سابقہ پرفارمنسز کے دوران فلسطین کے حق میں بیانات اور ’’فری فلسطین‘‘ کے مطالبے کے بعد گلوکار ایڈ شیرن کے امریکی ’’لوپ ٹور‘‘ کے باقی ماندہ شوز سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ٹور کے منتظمین نے پیر کے روز اس حوالے سے تصدیق کی۔ ایڈ شیرن کے امریکی ٹور کے پروموٹر میسینا ٹورنگ گروپ نے ’’رولنگ اسٹون‘‘ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ آئندہ امریکی ٹور کے شوز کی میزبانی کرنے والے مقامات نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ وہ میکلمور کی شمولیت کے ساتھ کنسرٹ کی اجازت نہیں دیں گے، جس کے نتیجے میں ٹور منسوخ ہونے اور لاکھوں مداحوں کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ ایجنسی کے مطابق متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد میکلمور کو باقی ماندہ شوز میں پرفارم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میکلمور نے انسٹاگرام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹور سے نکالے جانے کی خبر سن کر انہیں سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہیں، تاہم انہوں نے ’’دل کی بات اور سچ‘‘ بیان کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ایڈ شیرن متاثرہ فریق نہیں اور نہ ہی گلوکارہ پنک، جنہوں نے سوشل میڈیا پر میکلمور کے بیانات پر تنقید کی تھی، بلکہ اصل متاثرین فلسطینی عوام ہیں جو ان کے بقول ہلاک، بھوکے، بے گھر اور ناقابل تصور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ میکلمور نے کہا کہ ایڈ شیرن ان کے دوست ہیں اور ان کے بیانات کا مقصد گلوکار کی کردار کشی نہیں، تاہم دوستی انہیں اپنے خیال میں سچ بیان کرنے کی ذمہ داری سے نہیں روک سکتی۔ ریپر کے مطابق ایڈ شیرن نے انہیں بتایا کہ میساچوسٹس کے گِلٹ اسٹیڈیم کے مالک کاروباری شخصیت رابرٹ کرافٹ نے فون کرکے کہا تھا کہ اگر میکلمور کو ٹور سے نہ ہٹایا گیا تو وہاں ہونے والا پروگرام منعقد نہیں ہوگا۔ میکلمور نے کہا کہ ایڈ شیرن ایک مشکل صورتحال میں تھے کیونکہ ان کا عمومی طور پر غیر سیاسی مؤقف پہلی بار اس طرح چیلنج ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کے درمیان اس معاملے پر گفتگو ہوئی، تاہم ایڈ شیرن کا مؤقف برقرار رہا کہ وہ ’’کسی فریق کا ساتھ نہیں لیتے‘‘۔ میکلمور نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک ظالم اور مظلوم کے درمیان کوئی غیر جانبدار مؤقف نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اسرائیل پر تنقید، صہیونیت کی مخالفت یا ’’فری فلسطین‘‘ کے مطالبے کو یہودیوں سے نفرت کے ساتھ جوڑنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے خیال میں اس طرح کے الزامات یہودیوں کا تحفظ نہیں کرتے بلکہ اسرائیل کو جواب دہی سے بچانے کا باعث بنتے ہیں۔