
کیف/لندن، 15 ستمبر 2026 (نوشین): یوکرین روس کے بڑھتے ہوئے طاقتور جیٹ انجن والے حملہ آور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے انٹرسیپٹر ڈرونز تیار کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے، تاہم حالیہ فوجی تجربے میں تیز رفتار ڈرونز کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اہم مشکلات سامنے آئی ہیں۔ جولائی کے آغاز میں یوکرینی فوج نے بڑی تعداد میں ڈرون تیار کرنے والی کمپنیوں کو روسی جیٹ انجن والے حملہ آور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے نئے انٹرسیپٹرز کی آزمائش کے لیے مدعو کیا، تاہم اس تجربے کے نتائج توقعات کے مطابق نہیں رہے۔ تجربے سے واقف دو ذرائع کے مطابق کئی انٹرسیپٹر ڈرونز کو بعض اوقات 400 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر کنٹرول کرنا مشکل ثابت ہوا، جبکہ کچھ ڈرون قریبی کھیتوں اور جنگلات میں جاگرے۔ اس تجربے نے یوکرین کو درپیش مشکلات کو نمایاں کردیا ہے، جو ایک اور موسم سرما میں داخل ہورہا ہے جبکہ روسی بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے کافی مغربی فضائی دفاعی نظام دستیاب نہیں اور ماسکو کے زیادہ تیز رفتار اور طاقتور ڈرونز کے خلاف بھی فی الحال کوئی واضح حل موجود نہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھی گئی یوکرینی فوجی معلومات کے مطابق روس نے رواں موسم گرما میں تین ماہ کے دوران جیٹ انجن والے ڈرونز کے استعمال میں تقریباً چھ گنا اضافہ کیا۔ یوکرینی فضائیہ کے ڈپٹی کمانڈر یوری چیرویشینکو نے تیز رفتار انٹرسیپٹر ڈرونز کی تیاری میں مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے کم لاگت کے متعدد نظام میدان میں اتارنے کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یوکرین جلد ہی ایسے ہتھیاروں کی ایک نئی قسم تیار کرنے میں کامیاب ہوجائے گا جو جیٹ انجن والے بغیر پائلٹ فضائی طیاروں (یو اے وی) کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکیں گے۔