Thursday, September 10

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران قطری ایل این جی کا کارگو کراچی پہنچ گیا

Qatari LNG Cargo Reaches Karachi Amid Strait of Hormuz Tensions

کراچی، 10 ستمبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان کو قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی نئی کھیپ موصول ہوگئی، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے کے بعد جمعرات کو پورٹ قاسم پہنچ گئی۔ ایل این جی بردار جہاز ال مروّنا قطر کے راس لفان ٹرمینل سے تقریباً 81,936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر آیا، جس نے پاکستان اور قطر کے درمیان حکومت سے حکومت کے معاہدے کے تحت 7 ستمبر کو آبنائے ہرمز عبور کیا۔ اس کھیپ سے پاکستان کے بجلی کے شعبے کو عارضی ریلیف ملنے کی توقع ہے، جہاں ملک کے بعض علاقوں میں 6 سے 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایل این جی کارگو برینٹ کی قیمت کے 13.37 فیصد کے مساوی نرخ پر حاصل کیا گیا۔قطری ایل این جی کارگو کی بحفاظت آمد نے عالمی ایل این جی مارکیٹوں کی بھی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ اس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے قطری گیس کی طویل عرصے تک فراہمی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کم ہوسکتے ہیں۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں ایشیا کے بینچ مارک پلیٹس جے کے ایم اور شمال مغربی یورپ میں ایل این جی کی قیمتوں پر بھی دباؤ آیا ہے۔ یہ کھیپ ایسے وقت میں پہنچی ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ اہم آبی گزرگاہ کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کے باعث انشورنس اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی توانائی کی فراہمی میں مزید رکاوٹوں کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ کھیپ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق جولائی میں آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ پہلا قطری ایل این جی کارگو ہے جو خلیج فارس سے روانہ ہوا ہے۔ دریں اثنا، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے 5 ستمبر کو جاری کیا گیا اسپاٹ ایل این جی ٹینڈر منسوخ کردیا ہے، جسے 8 ستمبر کو کھولا جانا تھا۔ اگرچہ قطری ایل این جی کارگو کی کامیاب آمد سے فوری طور پر کچھ ریلیف فراہم ہوا ہے، تاہم اس سے پاکستان کی مستقبل کی ایل این جی فراہمی سے متعلق خدشات ختم نہیں ہوئے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ میں دوبارہ رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں ایل این جی کی خریداری کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، توانائی کے تحفظ پر دباؤ پڑ سکتا ہے اور بجلی کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ قطر آبنائے ہرمز سے وابستہ خطرات کو محدود کرنے کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنے اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ قطر دنیا کے بڑے ایل این جی فراہم کنندگان میں شامل ہے اور علاقائی توانائی کی منڈیوں اور سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔