
اسلام آباد، 10 ستمبر 2026 (کامران راجہ): امریکی سفارتخانہ اسلام آباد نے پاکستان-امریکا سابق طلبہ نیٹ ورک کے اقتصادی پالیسی چیلنج کے موقع پر پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی۔ دو روزہ کیس پر مبنی اس مقابلے میں ماہرین پر مشتمل ٹیموں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ ’’پاکستان ایک زیادہ مسابقتی، خوشحال اور عالمی معیشت سے زیادہ مربوط معیشت کیسے تشکیل دے سکتا ہے؟‘‘ اس تقریب میں پاکستان بھر سے 70 سابق طلبہ نے شرکت کی، جبکہ بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا سے مزید چھ شرکاء بھی اس چیلنج میں حصہ لینے کے لیے آئے۔ مقابلے کے دوران سابق طلبہ کی ٹیموں نے پیچیدہ اقتصادی پالیسی چیلنجز پر غور کیا، جن میں امریکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، پاکستان کے عالمی تشخص کو بہتر بنانا، عالمی سرمائے کی تقسیم، سستے توانائی کے مستقبل کو یقینی بنانا، ٹیکس نظام کو معقول بنانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ادارہ جاتی تحفظات کو مضبوط کرنا شامل تھا۔ شرکاء نے اپنی سفارشات اعلیٰ سطح کے متعلقہ حکام اور ماہرین پر مشتمل پینل کے سامنے پیش کیں۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ اسلام آباد کے قائم مقام ناظم الامور اینڈی ہالس نے کہا کہ اس پہلے اقتصادی پالیسی چیلنج نے شرکاء کو ’’زیادہ مسابقتی، باہمی طور پر خوشحال اور عالمی معیشت سے مربوط‘‘ پاکستانی معیشت کی تشکیل کے لیے عملی سفارشات تیار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ چارج ہالس نے کہا، ’’امریکا کے قیام کے بعد گزشتہ 250 برسوں کے دوران امریکا نے جدت طرازی کے جذبے کو فروغ دیا ہے۔ آج میں نے دیکھا کہ شرکاء نے اسی جذبے کو اپناتے ہوئے پاکستان میں اپنے اقتصادی مسائل سے نمٹنے کی کوشش کی۔ ہمیں فخر ہے کہ امریکا کی بنیادی اقدار مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے اپنا اثر ڈال رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکا کے قیام کی 250ویں سالگرہ کے حوالے سے ’’فریڈم 250‘‘ تقریبات پورے 2026 کے دوران جاری ہیں، جن میں ان خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے جنہوں نے امریکا کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پروگرام کے ذریعے قائم ہونے والے روابط اس کی قدر کا ایک اہم حصہ ہیں، کیونکہ اس پروگرام نے پاکستان-امریکا سابق طلبہ نیٹ ورک کے سابق طلبہ کو دیگر سابق طلبہ، صنعتی ماہرین اور امریکی کمپنیوں سے منسلک کیا ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ان روابط کو برقرار رکھیں اور انہیں باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کریں۔ چارج ہالس نے کہا، ’’گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکا پاکستان کی برآمدات کے لیے سب سے بڑی واحد ملکی منڈی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی پالیسی چیلنج کے دوران تیار کی گئی سفارشات نے ظاہر کیا کہ امریکی پروگراموں سے مستفید ہونے والے سابق طلبہ پاکستان کے کاروباری ماحول میں ایسی اصلاحات کے لیے مل کر غوروفکر کر سکتے ہیں جن سے امریکی کمپنیوں کے لیے رسائی اور متعلقہ سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ چارج ہالس نے تقریب کے انعقاد میں معاونت کرنے والی تنظیموں اور ٹیموں کا بھی شکریہ ادا کیا، جن میں اکاؤنٹیبلٹی لیب پاکستان اور پاکستان میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن شامل ہیں۔