
ماسکو، 7 ستمبر 2026 (کامران راجہ): شمالی کوریا اور روس نے دریائے تومن پر تعمیر کیا گیا اپنا پہلا سڑک پل باضابطہ طور پر کھول دیا ہے، جسے دونوں ممالک نے اپنی بڑھتی ہوئی تزویراتی شراکت داری میں اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق نیا پل موجودہ ’’فرینڈشپ برج‘‘ کے قریب واقع ہے، جو 1959 میں کوریائی جنگ کے بعد ریلوے پل کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان پہلے ہی براہ راست فضائی اور ریلوے رابطے موجود ہیں۔ روسی وزیراعظم میخائل میشوستن نے کہا کہ نیا پل سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان ترقی کو فروغ دے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع سے تجارت، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ نئے پل کی تعمیر، جس پر کئی سال سے بات چیت جاری تھی، اپریل 2025 میں شروع ہوئی تھی، جبکہ اس کی تعمیر کا معاہدہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے 2024 میں شمالی کوریا کے دورے کے دوران طے پایا تھا۔ 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد ماسکو اور پیانگ یانگ کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں، جبکہ شمالی کوریا نے 2024 میں یوکرینی فوج کی دراندازی کو پسپا کرنے میں مدد کے لیے روس کے علاقے کرسک میں ہزاروں فوجی بھیجے تھے۔