
ماسکو، 7 ستمبر 2026 (نوشین): روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران مستقبل میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھرتا ہوا سکیورٹی انتظام اپنے بانی خلیجی رکن ممالک سے آگے بھی وسعت اختیار کرسکتا ہے۔ لاوروف نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہے گا اور مستقبل میں دیگر ریاستیں بھی اس کا حصہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے مصر کو ممکنہ رکن کے طور پر نامزد کیا جبکہ الجزائر کی جانب سے کسی بھی ممکنہ دلچسپی کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران بھی مستقبل میں اس دفاعی اتحاد میں شامل ہوسکتا ہے، تاہم تہران کی جانب سے معاہدے میں شمولیت کی کوئی باضابطہ درخواست سامنے نہیں آئی۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ معاہدہ مزید ممالک کی شمولیت کی گنجائش رکھتا ہے، تاہم اب تک ان ممالک کی حتمی فہرست کا اعلان نہیں کیا گیا جو باضابطہ رکنیت کے خواہاں ہیں۔ لاوروف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تین رکنی سکیورٹی انتظام کو علاقائی سطح پر مزید وسعت دینے کے امکانات زیرِ غور ہیں، جبکہ ایران، مصر اور الجزائر جیسے ممالک کی ممکنہ شمولیت سے معاہدے کا تزویراتی اور جغرافیائی دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوسکتا ہے۔ تاہم مستقبل میں کسی بھی ملک کی رکنیت کا فیصلہ موجودہ رکن ممالک اور متعلقہ ریاستوں کے باضابطہ فیصلوں سے مشروط ہوگا۔