Tuesday, September 1

ایس سی او رہنماؤں نے بشکیک اعلامیہ پر دستخط کر دیے، سفارت کاری اور اقتصادی تعاون پر زور

SCO Leaders Sign Bishkek Declaration, Call for Diplomacy and Economic Cooperation

بشکیک، 1 ستمبر 2026 (نوشین): شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے رہنماؤں نے بشکیک اعلامیہ پر دستخط کرتے ہوئے سفارت کاری، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، جوہری عدم پھیلاؤ اور علاقائی استحکام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران منظور کیے گئے اعلامیے میں اہم جغرافیائی سیاسی اور علاقائی معاملات پر رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کا اظہار کیا گیا، جن میں اقتصادی تعاون، دہشت گردی، مشرق وسطیٰ، جوہری عدم پھیلاؤ، افغانستان اور عالمی سلامتی شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اعلامیے میں یوکرین تنازع کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ایس سی او رکن ممالک نے دوہرے معیار اور خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔اقتصادی امور پر رکن ممالک نے ایک کھلے، شفاف، منصفانہ، جامع اور غیر امتیازی کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت کی۔ انہوں نے یکطرفہ دباؤ اور ایسی پابندیوں کی بھی مخالفت کی جو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون یا عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں سے متصادم ہوں اور عالمی معیشت، غذائی سلامتی، توانائی کی سلامتی یا انسانی تحفظ پر منفی اثرات مرتب کریں۔ بشکیک اعلامیے میں عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور شمولیت بڑھانے پر زور دیا گیا۔ ایس سی او ممالک نے ایس سی او انٹربینک کنسورشیم کے ذریعے مالیاتی تعاون میں اضافے اور ایران کے نامزد بینک کو اس نظام سے منسلک کرنے کے عمل کو تیز کرنے کی حمایت بھی کی۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایس سی او رکن ممالک نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔

انسداد دہشت گردی کے حوالے سے رکن ممالک نے دہشت گرد، علیحدگی پسند یا انتہا پسند گروہوں کو سیاسی یا دیگر مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا۔ انہوں نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کی مخالفت اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے تحت مشترکہ کارروائی پر زور دیا۔اعلامیے میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی مکمل پاسداری اور عالمی جوہری تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ تاہم، رکن ممالک نے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی تحقیق، پیداوار اور استعمال کے اپنے حق کی بھی توثیق کی۔ ایس سی او رہنماؤں نے واضح کیا کہ تنظیم نہ تو فوجی اتحاد ہے اور نہ ہی سیاسی بلاک، اور نہ ہی یہ کسی ملک یا گروہ کے خلاف قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے باہمی احترام، مساوات، عدم مداخلت اور کشادگی کے اصولوں کی پاسداری اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔ خلا کے حوالے سے رکن ممالک نے خلا کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک رکھنے کا مطالبہ کیا اور خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدے کی حمایت کی۔ اعلامیے میں عالمی میزائل دفاعی نظام کی یکطرفہ اور لامحدود توسیع کو بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ کوئی بھی ملک دوسرے ممالک کی سلامتی کی قیمت پر اپنی سلامتی یقینی بنانے کی کوشش نہ کرے۔ ایس سی او رکن ممالک نے دوسری جنگ عظیم کے نتائج اور تاریخی یادداشت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تاریخ کو مسخ یا تبدیل کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔افغانستان کے حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا کہ پائیدار امن کے لیے ایک ایسی جامع حکومت ضروری ہے جس میں تمام نسلی اور سیاسی گروہوں کی وسیع نمائندگی ہو۔ رکن ممالک نے افغانستان کو دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک ایک آزاد، غیر جانب دار اور پرامن ریاست بنانے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ ایس سی او ممالک نے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔