اسلام آباد، 27 اگست 2026 (نوشین): پاکستان کو توقع ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ مالی استحکامی سہولت کی درخواست پر آئندہ چند ماہ کے دوران جواب مل جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات سے اقتصادی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بلومبرگ کو بتایا کہ اس مالی سہولت کے معاملے پر امریکا کے ساتھ بات چیت تعمیری انداز میں جاری ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ امریکی استحکامی سہولت پاکستان کے لیے ممکنہ مالی پشت پناہی اور اعتماد کے اشارے کے طور پر کام کرے گی، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے پانچ سال تک کی مدت کے لیے دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ سہولت کی درخواست کی تھی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی گزشتہ ہفتے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجوزہ انتظام کا مقصد روایتی قرض یا کریڈٹ لائن فراہم کرنا نہیں بلکہ پاکستانی کرنسی اور زرمبادلہ کے استحکام کے حوالے سے اعتماد کا پیغام دینا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ درخواست اس وقت امریکی محکمہ خزانہ کے پاس ہے اور منظوری کی صورت میں ستمبر تک پیش رفت متوقع ہے۔ 10 ارب ڈالر کی اس درخواست کا تعلق پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران مذاکرات میں کردار ادا کرنے سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جس سے اسلام آباد کا سفارتی کردار نمایاں ہوا اور واشنگٹن سمیت دیگر شراکت داروں سے اقتصادی فوائد حاصل کرنے کی امید بڑھی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مشرق وسطیٰ کے تنازع سے متعلق سفارتی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی معاشی صورتحال میں بھی بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ ملک نے مالی استحکام کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں عالمی مالیاتی فنڈ سے 7 ارب ڈالر کا تین سالہ بیل آؤٹ پیکیج اور اتحادی ممالک سے حاصل کیے گئے قرضے شامل ہیں۔ موڈیز ریٹنگز نے بھی حال ہی میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے اور اس کی وجوہات میں بہتر بیرونی مالی پوزیشن، مضبوط مالیاتی اشاریے اور ملکی قرضوں کی مالی معاونت کی کم لاگت کو قرار دیا ہے۔پاکستان رواں سال چار سال کے وقفے کے بعد عالمی قرض مارکیٹ میں بھی واپس آیا، جہاں اس نے یورو بانڈ کے ذریعے فنڈز حاصل کیے اور چین میں پہلی مرتبہ چینی یوآن میں مالیت والے بانڈز جاری کیے۔
