Thursday, August 27

آبنائے ہرمز کھلنے کی امید، ایران سے مذاکرات میں پیش رفت پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

Hormuz Reopening Hopes Send Oil Prices Tumbling as Iran Talks Gain Traction

سنگاپور، 27 اگست 2026 (غفران): ایران اور قطر کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات سے آبنائے ہرمز کھولنے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹیں کم ہونے کی امید پر جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز کمی ریکارڈ کی گئی۔برینٹ خام تیل کے سودے 60 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے بعد 87.24 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 56 سینٹ یا 0.7 فیصد کم ہو کر 81.67 ڈالر فی بیرل رہی۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے حوالے سے اتفاق کیا ہے۔28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی مجموعی تیل اور قدرتی گیس کی کھپت کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر ترسیلات گزرتی تھیں۔ تاہم ایران کی جانب سے آبی گزرگاہ کو محدود کرنے کے بعد شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً ایک چوتھائی تک رہ گئی ہے۔ اے این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز نے کہا کہ جاری مذاکرات کے باعث آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات بہتر ہونے سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قلت کے خدشات اب بھی برقرار ہیں۔ قطر کے وزیراعظم جمعرات کو ایران کا دورہ کریں گے تاکہ تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ امریکا نے تقریباً ایک ماہ سے ایران پر حملے روک رکھے ہیں اور تہران پر مزید اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں خلیجی توانائی کی سپلائی میں رکاوٹیں کم ہونے کی توقعات بڑھی ہیں۔ تاہم جنگ کے خاتمے کی شرائط پر فریقین کے درمیان اب بھی شدید اختلافات موجود ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے خلیج اور آبنائے میں بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جون میں طے پانے والے لیکن بعد میں ختم ہونے والے عبوری جنگ بندی معاہدے کے تحت امریکا کی جانب سے شرائط تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ اور روس یوکرین جنگ نے عالمی ڈیزل مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کئی ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ یوکرین کے روسی ریفائنریوں پر حملوں کے باعث ایک بڑے عالمی ڈیزل سپلائر کی برآمدات میں کمی آئی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا میں ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر 2.2 ملین بیرل کم ہو کر 103.4 ملین بیرل رہ گئے۔ ڈینیئل ہائنز کے مطابق یہ اس سال کے اس وقت کے لیے ریکارڈ کیا جانے والا اب تک کا سب سے کم ڈسٹلیٹ ذخیرہ ہے۔