
نئی دہلی، 20 اگست 2026 (نیوز ڈیسک): بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کو نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس تشدد اور سکیورٹی اہلکاروں پر مظاہرین کے حملوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک پینل تشکیل دے دیا۔ یہ احتجاج قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے بعد شروع ہوا تھا۔ مظاہروں کا آغاز نئی دہلی سے ہوا اور بعد ازاں دیگر شہروں تک پھیل گیا، جب پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے ہزاروں مظاہرین کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑا۔عدالت کے حکم کے مطابق تحقیقاتی پینل کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کریں گے، جبکہ پینل میں مزید دو ریٹائرڈ ججز اور دو سابق پولیس سربراہان بھی شامل ہوں گے۔ پینل ان الزامات کی بھی تحقیقات کرے گا کہ خواتین مظاہرین کو مبینہ طور پر ہدف بنا کر تشدد، ہراساں کیے جانے اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دیگر مظاہرین سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں شدید زخمی ہوئے۔
عدالت نے یہ حکم طلبہ مظاہرین اور سماجی کارکنوں کی جانب سے دائر درخواستوں پر جاری کیا، جن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پولیس اور نیم فوجی فورسز نے ضرورت سے زیادہ طاقت اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا۔تاہم پولیس نے رواں ہفتے عدالت کو بتایا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے اس وقت طاقت کا استعمال کیا جب مظاہرین نے مبینہ طور پر تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ احتجاج میں مظلوم طلبہ کا روپ دھارنے والے شرپسند عناصر نے سکیورٹی اہلکاروں کو شدید زخمی کیا۔ سپریم کورٹ نے تحقیقات مکمل کرنے کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی، تاہم پینل کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد عبوری رپورٹ پیش کرے۔ یہ احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کے تیسرے دور حکومت کے دوران پیدا ہونے والے سنگین ترین سیاسی بحرانوں میں شمار کیا گیا اور اس وقت ختم ہوا جب اُس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔حکومت نے بعد ازاں امتحانی نظام میں اصلاحات اور سوالیہ پرچے لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو معاوضہ دینے پر بھی اتفاق کیا۔