
اسلام آباد، 19 اگست 2026 (غفران): انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے یونیورسٹی کے وائس پریذیڈنٹس کے انتخاب اور تقرری کے عمل سے متعلق بعض اخبارات اور میڈیا کے حلقوں میں شائع ہونے والی خبروں کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان رپورٹس میں بعض ایسے دعوے شامل ہیں جو یونیورسٹی کے مقررہ طریقہ کار اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری کارروائی کی نامکمل اور مسخ شدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ وائس پریذیڈنٹس کے انتخاب کا مکمل عمل انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد آرڈیننس 1985 کی قابلِ اطلاق شقوں اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق منصفانہ اور شفاف انداز میں انجام دیا گیا، جس کی منظوری مجاز فورم یعنی بورڈ آف گورنرز نے دی تھی۔انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے مزید وضاحت کی کہ زیرِ بحث تقرریوں کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے یونیورسٹی کے خلاف کوئی منفی حکم یا فیصلہ جاری نہیں کیا گیا اور عدالت کا سرکاری نوٹس بھی تاحال یونیورسٹی کو موصول نہیں ہوا۔ یونیورسٹی کے مطابق سماعت کے پہلے روز نوٹس جاری کرنا یا وضاحت طلب کرنا معمول کی عدالتی کارروائی کا حصہ ہے، تاہم اسے یونیورسٹی اور اس کی انتظامیہ کے خلاف مبینہ غیر قانونی یا طریقہ کار کی خلاف ورزی سے متعلق عدالتی فیصلہ قرار دے کر پیش کیا گیا۔
یونیورسٹی نے کہا کہ بعض خبروں میں اس معاملے کو یونیورسٹی کے سابق قانونی مشیر اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق سابق قانونی مشیر کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت آئینی درخواست نمبر 7 برائے 2024 میں عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور ان کی برطرفی کے بعد سے وہ مسلسل یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ طور پر گردش کرنے والی رپورٹس میں اس اہم پس منظر کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ یونیورسٹی نے یہ بھی کہا کہ اصل خبر کی اشاعت سے قبل انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ترجمان سے حقائق کی تصدیق، وضاحت یا یونیورسٹی کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ نہیں کیا گیا، جو درستگی، توازن اور ذمہ دارانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے کہا کہ وہ شفافیت، ادارہ جاتی سالمیت اور قانونی عمل پر مکمل اعتماد کے لیے پرعزم ہے۔ یونیورسٹی نے واضح کیا کہ وہ اپنے تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتی ہے، جن میں ہتکِ عزت کے قوانین کے تحت کارروائی، ہرجانے کا دعویٰ اور یونیورسٹی کو ذاتی مفادات کے لیے بدنام کرنے والے ذمہ دار عناصر کے خلاف دیگر قانونی اقدامات شامل ہیں۔