
نیویارک، 17 اگست 2026 (کامران راجہ) – اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت عسکریت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور معاونت فراہم کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عرب نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس میں بھی افغانستان کو مختلف دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔عاصم افتخار نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، مجید بریگیڈ اور داعش سے منسلک ایک علاقائی گروہ کو پاکستان کے لیے بڑے خطرات قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں، اسلحہ، مالی معاونت اور سرحد پار دراندازی کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے طالبان قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ عالمی برادری کی افغانستان سے توقعات میں ایک جامع حکومت کا قیام، انسانی حقوق بالخصوص خواتین اور بچیوں کے حقوق کا احترام اور افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اختلافات افغان عوام سے نہیں بلکہ طالبان کی پالیسیوں سے ہیں، اور طالبان قیادت کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی چاہیے تاکہ افغانستان کی عالمی تنہائی ختم کرنے اور خطے میں امن و استحکام بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔