
مکہ مکرمہ، 7 اگست 2026 (نوشین):پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان آج سعودی عرب میں ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران ایک اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں، جسے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ دفاعی معاہدے کا مقصد تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ہم آہنگی، دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خطے کی سلامتی کو متاثر کیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری تجارت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیتا رہا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کے سرکاری دورے پر موجود ہیں۔ یہ دورہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عمرہ ادا کیا اور پاکستان، سعودی عرب اور پوری امتِ مسلمہ کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان بھی سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں، جہاں تینوں ممالک کی قیادت علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون، انسدادِ دہشت گردی، مشترکہ عسکری حکمتِ عملی اور اقتصادی شراکت داری سمیت اہم امور پر تبادلۂ خیال کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔