
اسلام آباد، 5 اگست 2026 (کامران راجہ): فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ (سی ٹی ڈبلیو) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اطہر وحید نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس پر مبنی تفتیش، ڈیجیٹل جدت اور بین الاقوامی تعاون پاکستان کی دہشت گردی، سائبر کرائم، مالیاتی جرائم، انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ اور بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف صلاحیت کو مزید مؤثر بنا رہے ہیں۔ دی پاکستان ٹائمز نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر محمد اطہر وحید نے کہا کہ جرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو روایتی طریقۂ کار سے آگے بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور انٹیلی جنس پر مبنی نظام کو اپنانا ہوگا تاکہ قومی سلامتی کو درپیش جدید خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے مجرمانہ نیٹ ورکس ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خفیہ مواصلاتی ذرائع، ورچوئل اثاثوں اور بین الاقوامی مالیاتی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرحدوں سے ماورا سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جدید تحقیقاتی صلاحیتوں اور عالمی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق ان کی قیادت میں ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل فرانزک، اوپن سورس انٹیلی جنس ، جدید ڈیٹا اینالیٹکس اور ورچوئل اثاثوں کی تحقیقات کو اپنے آپریشنل نظام کا حصہ بنایا ہے، جس سے مجرمانہ نیٹ ورکس کی نشاندہی، سائبر جرائم کی حقیقات، غیر قانونی مالیاتی لین دین کا سراغ لگانے اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے قیام کو ایف آئی اے کی ایک اہم ادارہ جاتی اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ادارے کے اندر آپریشنل ہم آہنگی، انٹیلی جنس کے تبادلے اور حقیقی وقت میں ردِعمل کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر محمد اطہر وحید نے کہا کہ دہشت گردی اور بین الاقوامی منظم جرائم کے مؤثر سدباب کے لیے عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، تحقیقی سرگرمیوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور پیشہ ورانہ تربیت کو جدید پولیسنگ کی کامیابی کے لیے بنیادی عناصر قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی نے تفتیشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے، تاہم دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت، شفافیت، جوابدہی اور عوامی خدمت جیسے بنیادی اصول ہی مؤثر قانون نافذ کرنے والے نظام کی اصل بنیاد ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد پیشہ ورانہ تجربہ رکھنے والے پولیس سروس آف پاکستان کے سینئر افسر ڈاکٹر محمد اطہر وحید پنجاب پولیس، نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس اور ایف آئی اے میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں، جہاں انہوں نے ڈیجیٹل تبدیلی، جدید پولیسنگ، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس پر مبنی حکمت عملی، مسلسل جدت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے پاکستان کو درپیش ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتا رہے گا۔