Sunday, August 2

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ، وزارت خزانہ

اسلام آباد، 2 اگست 2026 (کامران راجہ): پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملک میں مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ جولائی 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح 9 سے 10 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے ملکی معیشت سے متعلق اپنی ماہانہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی، جس میں قومی معیشت کی مجموعی صورتحال، اہم اقتصادی اشاریوں اور درپیش چیلنجز کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 33.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ملکی برآمدات 4.6 فیصد کم ہو کر 30.8 ارب امریکی ڈالر رہ گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 41.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہیں۔ ان ترسیلات نے ملک کے بیرونی شعبے کو نمایاں سہارا فراہم کیا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق 17 جولائی تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 22.7 ارب امریکی ڈالر رہے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 17.3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئے۔ جون 2026 میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 11.1 فیصد رہی، جو مئی میں 11.7 فیصد تھی، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط مہنگائی 7.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ میں جولائی سے ستمبر کے دوران معمول سے کم بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اس سے خریف کی فصلوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کم بارشوں کی صورت میں کپاس، چاول، گنا اور مکئی کی فصلوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ صنعتی شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی سے مئی کے عرصے کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 13.01 کھرب روپے کے ٹیکس جمع کیے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 10.8 فیصد زیادہ ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی سے مئی کے دوران مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 1.6 فیصد تک محدود رہا، جو جاری معاشی چیلنجز کے باوجود مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی حکومتی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔