
تہران، 1 اگست 2026 (کامران راجہ): ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے اس کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو اس کا جواب بھرپور اور جامع ہوگا، جبکہ تہران کا ردعمل صرف محدود اہداف تک نہیں رہے گا۔ ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے اعلیٰ کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی جارحیت یا غلط اندازے پر مبنی اقدام کے سنگین نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ کرکے بغیر نتائج کے بچ نکلنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں اسرائیلی فوجی تنصیبات، خطے میں موجود امریکی مراکز اور اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچا ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری صلاحیت، عزم اور جامع منصوبہ بندی موجود ہے۔
ایرانی کمانڈر نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا کہ وہ غلط اندازوں کی بنیاد پر کوئی اقدام نہ کریں، کیونکہ کسی بھی دشمنانہ کارروائی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں ایران کے خلاف ممکنہ مزید حملوں، بشمول توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے منصوبوں سے متعلق رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ ایرانی حکام ماضی میں بھی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی دفاعی حکمت عملی کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور بیرونی جارحیت کی روک تھام ہے۔