
کیف، 24 ستمبر 2026 (کامران راجہ): یوکرین میں روسی ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں گزشتہ رات کم از کم 8 شہری ہلاک ہوگئے، یوکرینی حکام کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ یوکرین کے وزیر داخلہ ایہور ویہیوسکی کے مطابق شمال مشرقی خارکیف کے علاقے میں ایک حملے کے نتیجے میں 6 زرعی کارکن ہلاک اور 12 زخمی ہوئے، جبکہ کیف میں ہونے والے حملے میں ایک مرد اور ایک خاتون ہلاک ہوئے اور 50 سے زائد شہری مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں رہائشی عمارتیں، زچہ و بچہ اسپتال، ڈاک خانے اور ٹیکسٹائل فیکٹری شامل ہیں۔ جنوبی شہر اوڈیسا کے حکام نے بھی شدید بمباری کی اطلاع دی۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ روس پر معاشی دباؤ بڑھایا جائے اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کی جائے، جبکہ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ماسکو کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ عارضی جنگ بندی کے بجائے جامع امن معاہدے کی ضرورت ہے۔ روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی افواج نے کیف اور اوڈیسا کے علاقوں میں اسلحہ ساز فیکٹریوں، مواصلاتی اور لاجسٹک تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ یو این ہیومن رائٹس مانیٹرنگ مشن کے مطابق اگست میں روسی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 368 شہری ہلاک اور 2,314 زخمی ہوئے۔ دوسری جانب روسی حکام نے روستوف اور کراسنودار کے علاقوں میں یوکرینی ڈرون حملوں کی اطلاع دی، جبکہ رومانیہ اور مالدووا نے بھی حالیہ روسی حملوں کے دوران اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات دیں۔ رومانیہ کے مطابق ایک ڈرون تقریباً چار منٹ تک اس کی فضائی حدود میں داخل رہا اور یوکرین کی سرحد کے قریب ایک قصبے کے نزدیک گر کر تباہ ہوگیا، جبکہ مالدووا نے فضائی حدود میں متعدد خلاف ورزیوں کی اطلاع دیتے ہوئے شمالی فضائی حدود کے ایک حصے کو عارضی طور پر بند کردیا۔ تازہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ کے باعث علاقائی سلامتی، توانائی اور غذائی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں تاحال کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔