
صنعا، 3 اکتوبر 2026 (غفران): یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی گروپ کے درمیان گزشتہ تین ہفتوں کی شدید ترین فوجی کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ جنوب مغربی صوبوں تعز اور لحج میں لڑائی میں شدت کے باعث نقل مکانی کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں فوجی کارروائیاں تیز ہونے کے بعد تقریباً 1 لاکھ 98 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ فوج کے مطابق تعز اور لحج کے متعدد محاذوں پر حوثیوں کے بڑے حملے کو ناکام بناتے ہوئے حوثی ٹھکانوں اور گاڑیوں پر 6 فضائی حملے کیے گئے۔ تعز کے مختلف علاقوں میں بھی شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، جہاں حکومتی فورسز نے حوثیوں کو جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک اور واقعے میں حکومتی فورسز نے سماع ضلع کے شریع علاقے میں حوثیوں کا حملہ ناکام بنا دیا، جس کے نتیجے میں دونوں جانب ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یمن کی اندرونی طور پر بے گھر افراد کے کیمپوں کے انتظامی ادارے کے مطابق جولائی میں کشیدگی شروع ہونے کے بعد 29,519 خاندانوں کے 197,906 افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ تعز بے گھر افراد کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کے بعد لحج، عدن اور ابین کا نمبر آتا ہے۔ یمن کی وزارت انسانی حقوق نے بھی بتایا کہ ستمبر میں لڑائی کے دوران حوثیوں کی جانب سے مبینہ طور پر بھرتی کیے گئے کم از کم 100 بچوں کی ہلاکت کے واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے ہیں، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ یہ تعداد صرف ان کیسز پر مشتمل ہے جن کی شناخت اور تصدیق ممکن ہو سکی۔ یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی شکایت درج کرائی ہے اور جنوبی بحیرہ احمر میں بین الاقوامی فضائی راستوں کے قریب مبینہ طور پر حوثیوں کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال کو شہری ہوا بازی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ کشیدگی تعز، لحج، مارب، الجوف اور البیضا سمیت کئی محاذوں تک پھیل گئی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اپنی عمل داری مضبوط کرنے اور ملک میں استحکام بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یمن 2014 سے تنازع کا شکار ہے جب حوثیوں نے صنعا اور دیگر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد 2015 میں سعودی قیادت میں اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔