
صنعاء، 5 ستمبر 2026 (کامران راجہ): یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں شہریوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یمنی فوجی ذرائع کے مطابق ملک کے جنوب مغربی علاقے میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں حکومتی فورسز کے 26 اہلکار ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب حوثیوں کے طبی اور فوجی ذرائع نے 31 جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ حکومت کے زیر انتظام شہر تعز میں ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ میزائل حملے میں بس پر سفر کرنے والے 6 شہری ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔ یمنی حکومت کے ایک عہدیدار نے حملے کا الزام حوثی باغیوں پر عائد کیا ہے۔ تازہ جھڑپیں بحیرہ احمر تک رسائی فراہم کرنے والے اہم علاقوں کے کنٹرول کے لیے ہوئیں۔ یہ لڑائی جمعہ کو ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد شروع ہوئی، جن میں ایک روز کے دوران 129 افراد ہلاک ہوئے۔ یمن میں 2022 سے جاری ایک کمزور جنگ بندی جولائی میں ختم ہونے کے بعد کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ تعز میں ایک فوجی افسر نے کہا کہ آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ حوثی جنگجو ایک روز قبل شہر کے قریب کئی اہم فوجی پوزیشنوں پر قبضہ کرچکے ہیں۔ حکومتی فورسز نے حوثی پیش قدمی روکنے کے لیے عدن سے اضافی کمک بھی طلب کرلی ہے۔ حکام کے مطابق حوثیوں کا مقصد حکومتی کنٹرول میں موجود بندرگاہی شہر موخا کا زمینی رابطہ منقطع کرنا اور باب المندب آبنائے کے قریب علاقوں کی جانب پیش قدمی کرنا ہے۔ یمنی فوجی عہدیدار کے مطابق سعودی عرب نے ہفتے کے روز تعز میں حوثیوں کی جانب سے حال ہی میں قبضے میں لیے گئے ٹھکانوں پر تین فضائی حملے بھی کیے۔ باب المندب آبنائے کی تزویراتی اہمیت حالیہ علاقائی کشیدگی اور سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارتی و توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ یمن میں جاری تازہ لڑائی نے خدشات پیدا کردیئے ہیں کہ ملک ایک مرتبہ پھر وسیع تر مشرق وسطیٰ تنازع کا ایک اہم محاذ بن سکتا ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا ہے اور خطے میں بحری جہازوں اور دیگر اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کردی ہیں، جس سے عالمی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ پر مزید تشویش پیدا ہوگئی ہے۔