Tuesday, August 25

ڈولی پارٹن چاہتی تھیں کہ انہیں ’کتابوں والی خاتون‘ کے طور پر یاد رکھا جائے

Dolly Parton wanted to be remembered as the ‘book lady’

لاس اینجلس، 25 اگست 2026 (نوشین): معروف امریکی کنٹری میوزک آئیکون ڈولی پارٹن چاہتی تھیں کہ انہیں صرف اپنے شاندار موسیقی کے کیریئر کے حوالے سے نہیں بلکہ بچوں میں مطالعے کے فروغ کے لیے اپنی فلاحی خدمات کے باعث بھی یاد رکھا جائے۔ ڈولی پارٹن نے 25 اگست کو 80 برس کی عمر میں انتقال کیا۔ انہوں نے 1995 میں اپنے والد رابرٹ لی پارٹن کی یاد میں بچوں کو کتابیں فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا تھا، جو خود پڑھنے اور لکھنے سے قاصر تھے۔اپنی 2020 کی دستاویزی فلم ’دی لائبریری دیٹ ڈولی بلٹ‘ میں پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈولی پارٹن نے بچوں کے لیے اپنی خدمات کو اپنی زندگی کی ان کامیابیوں میں شمار کیا جن پر انہیں سب سے زیادہ فخر تھا۔ انہوں نے کہا تھا، ’’میرے والد پڑھ اور لکھ نہیں سکتے تھے اور یہ چیز ان کے لیے کسی حد تک مشکلات کا باعث تھی۔‘‘ ان کے مطابق والد کے تجربے نے انہیں بچوں میں مطالعے کے فروغ کے لیے یہ منصوبہ شروع کرنے کی ترغیب دی۔ ڈولی پارٹن امیجینیشن لائبریری کے تحت پیدائش سے لے کر پانچ سال کی عمر تک بچوں کو مفت کتابیں فراہم کی جاتی ہیں، جس کا مقصد کم عمری ہی سے بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا ہے۔ بعد ازاں ڈولی پارٹن اپنے کم عمر مداحوں میں محبت سے ’دی بک لیڈی‘ یعنی ’کتابوں والی خاتون‘ کے نام سے مشہور ہوگئیں۔2019 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے والد اتنی دیر تک زندہ رہے کہ وہ بچوں کو انہیں ’کتابوں والی خاتون‘ کہتے ہوئے سن سکے اور انہیں اپنی بیٹی کی اس کامیابی پر فخر تھا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ’کنٹری میوزک کوئین‘ یا ’کتابوں والی خاتون‘ میں سے کس نام سے یاد کیا جانا پسند کریں گی تو ڈولی پارٹن نے بلا تردد جواب دیا: ’’کتابوں والی خاتون۔‘‘ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں بچوں کے لیے کام کرنے سے بے حد خوشی ملتی ہے اور کم عمری میں بچوں پر مثبت اثر ڈالنا اور انہیں ابتدائی عمر ہی میں درست اقدار سکھانا انتہائی اہم ہے۔ ڈولی پارٹن اپنی موسیقی کے علاوہ امیجینیشن لائبریری کے ذریعے بھی ایک دیرپا ورثہ چھوڑ گئی ہیں، جس سے لاکھوں بچوں کو کتابوں اور ابتدائی مطالعے تک رسائی حاصل ہوئی۔