Thursday, September 17

چین کی ایران سے حوثیوں کو قابو کرنے کی اپیل، سعودی عرب کی درخواست پر اقدام

China Urges Iran to Rein in Houthis After Saudi Appeal

دبئی، 17 ستمبر 2026 (کامران راجہ): چین نے سعودی عرب کی درخواست کے بعد ایران سے نجی طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں قابو کرے۔ تین ایرانی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت حوثیوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب آبنائے کے اطراف تیز رفتار فوجی پیش قدمی کے بعد ہوئی، جس سے سعودی تیل کی برآمدات اور علاقائی بحری جہاز رانی کو خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے عوامی سطح پر تحمل، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا ہے، تاہم تہران کو دیے گئے نجی پیغام میں اس سے آگے بڑھ کر ایران پر زور دیا گیا کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر استعمال کرتے ہوئے تنازع کو ان اہم توانائی کے راستوں تک پھیلنے سے روکے جن پر چین کا انحصار ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے جواب دیا کہ خطے میں استحکام اور امن کا انحصار ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے خاتمے پر ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ بیجنگ نہیں چاہتا کہ خطے میں کشیدگی مزید یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلے، کیونکہ بڑھتی ہوئی علاقائی عدم استحکام کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ چین نے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیتے ہوئے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والے اقدامات کے خاتمے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔ چین ایک دہائی سے زائد عرصے سے ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے، جس کے باعث بیجنگ کے پاس تہران پر نمایاں معاشی اثر و رسوخ موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین نے 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں ثالثی کرکے اپنی سفارتی اہمیت بھی ظاہر کی تھی، تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ آیا بیجنگ اپنے معاشی اور تزویراتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو حوثیوں کے خلاف اقدامات پر آمادہ کر سکے گا۔ صورتحال نے بحری تجارت اور توانائی کی عالمی فراہمی میں وسیع پیمانے پر خلل کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی پہلے ہی شدید ہے۔